اس کو اس طرح دل چیرنے والے انداز میں روتا دیکھ کر تقویٰ کی برسوں سے دبی مامتا جاگ گئی اور اس نے فوراً اس بچے کو گلے سے لگا لیا۔
— Rimsha Qazi, دستِ سائبان
“بادشاہ نے شہزادے کی محبت میں یہ بات بالکل نظر انداز کر دی کہ شہزادہ ریاست کے امور سیکھنے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کرتا تھا بلکہ ہر وقت اپنے باغیچے میں تنہا وقت گزارتا۔”

“ابا کے گھر میں مگن ہوجانے سے اماں کی سوچوں کا ارتکاز بھی ٹوٹ گیا تھا اور یہ بدلاو¿ اس میں تبدیلیاں لانے لگا۔”
