بہار بیگم کی موت کے بعد کوٹھے اور محفلوں کی باگ دوڑ شنایہ نے سنبھال لی تھی، اور رخسار نے شنایہ کی خود سری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔ — Amna Shehzadi, Ghungroo- Urdu Novel About Identity Copy Share WhatsApp
by Amna Shehzadi
Contemporary Fiction · 30 pages
“شنایہ کے چہرے پر کچھ بیزاری آئی لیکن اُس نے رخسار اور ڈرائیور کی بات پر کوئی کان نا دھرے اور بد ستور اپنے موبائل میں مصروف رہی۔”
“بہار بیگم کا خدشہ جلد سچ ثابت ہوا جب ایک دن ماہ نور نے انہیں یہ کہہ کر گھنگرو واپس کر دیے کہ وہ اپنے کوٹھے پر واپس جانا چاہتی ہے اور اسے اس فن سے کوئی دلچسپی نہیں رہی۔”
“جب انسان اپنے پیروں کی زمین چھوڑکر آسمان کو پانے کی کوشش کرتا ہے، تو ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب آسمان انسان کو منہ کے بل گراتا ہے اور زمین واپس قبول کرنے سے انکار کر دیتی ہے۔”
“'' ملنگ کی دلہن تم نے ہی چرائی تھی نا؟ درندے ہو تم اللہ تمہیں کبھی معاف نہیں کر ے گا کبھی نہیں۔”
“مدرسے جانے کے فیصلے نے اس پر کوئی اثر نہ ڈالا اور وہ خوشی خوشی مدرسے جانے کے لیے راضی ہو گیا۔”
“پرویز کو لگا تھا کہ جس دن زرمینہ کی ماں اس دنیا سے گئی تھی قیامت اُس دن آئی تھی، پر وہ غلط تھا قیامت نےتو آج آنا تھا۔”
“پانچ سال پہلے ِاسی نیم کے پیڑ کے نیچے شانی نے مودی موچی کو اللہ کے انتقام سے ڈرایا تھا اور آج وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کے انتقام کو دیکھ رہا تھا۔”
A girl with high dreams and aspirations; trying to leave a mark on people's heart with her words.
“بدریکا کے لیے تو محبت ہی دکھ بن چکی تھی اس کے دل میں سوائے بد دعا کے اجمل شاہ کے لیے کچھ نہ تھا۔”
“ایک سچا سجدہ، کچھ پچھتاوے کے آنسو اور دل سے مانگی ہوئی معافی۔”
“ہانیہ کو یقین تھا کہ بچے کی پیدائش پراس کے گھر والوں کا دل ضرور پگھلے گا لیکن اس کے میکے والوں نے اس موقع پر بھی کوئی خاص گرم جوشی نہ دکھائی۔”
“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.