انسان اپنی عقل اور تدبیر پربھروسہ کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ایک تدبیر کرنے والا اوپر بھی ہے جو سب سے بہتر تدبیر کرتا ہے۔ — Musab Umair, نفرت / Nafrat Copy Share WhatsApp
by Musab Umair
Contemporary Fiction · 30 pages
“بات تکرار میں بدل گئی اور تو تو میں میں عروج پرپہنچی ہی تھی کہ اچانک اس کے باقی ساتھی فرحان سمیت ادھر پہنچ گئے کہ اتنی دیر کیوں لگ گئی۔”
“اگر انھیں پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ ان کے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگئے ہیں۔”
“اس میں اجالوں سے زیادہ واضح سائے بھی ہیں اور شور سے زیادہ بامعنی خاموشی بھی۔”
“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”
“میرے ذہن میں اس پابندی کا کوئی عقلی جواز نہ تھا لیکن لاشعور میں یہ احساس موجود تھا کہ اس طرح کی پابندیوں کی خلاف ورزی سے "دنیا" بدل جاتی ہے۔”
“ایک اور چیز جس نےمجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ ناروے میں انگریزی تو سب سمجھتے ہیں پر بولتا کوئی بھی نہیں ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.