متین نے اس سے پہلے آج تک کبھی اپنی شعوری زندگی میں لوگوں کو اس قدر جذباتی اور پرجوش نہیں دیکھا تھا۔ — Musab Umair, نفرت / Nafrat Copy Share WhatsApp
by Musab Umair
Contemporary Fiction · 30 pages
“انسان اپنی عقل اور تدبیر پربھروسہ کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ایک تدبیر کرنے والا اوپر بھی ہے جو سب سے بہتر تدبیر کرتا ہے۔”
“متین اپنے علاقے کے نوجوانوں کا لیڈر تھا اور جس جوش سے وہ مہم چلا رہا تھا سب کو لگتا تھا کہ یہ پاگل ہوگئے ہیں۔”
“اگر انھیں پتہ لگ جاتا کہ کچھ دیر پہلے وہ ان کے مخالف کے بارے میں کتنی خوشی خوشی سے قصیدے پڑھ رہے تھے تو وہ کیا سوچتے!”
“علم کی روشنی صرف کتابوں تک محدود نہیں، بلکہ دلوں کو روشن کر کے پوری دنیا کو منور کر سکتی ہے۔”
“اس فانی اور موت کے بعد کی ابدی زندگی میں اختیار حاصل کرنا صرف تب ہی ممکن ہے جب آپ اپنی روحانی اور جسمانی خواہشات پر قفل لگائیں، اس لئے ہمیشہ قرآنی تعلیمات کی پیرو ی کریں۔”
“نجمہ اور سالار احمد کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ آئے دن گھر میں ایسے ہی ہنگامے کرتا اور شیری کو گھر سے نکالنے کا تقاضا کرتا۔”
“بھوکا، پیاسا انسان جس کی منزل صرف موت ہے اور انسان کو لگتا ہے ابھی بہت سارا وقت پڑا ہے پر اسے معلوم نہیں ہوتا کہ زندگی کے صحرا میں منزل کےنام پر دھوکے زیادہ ہوتے ہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.