میری وجہ سے تمہیں جو تکالیف اٹھانی پڑیں ,تم نے جو اذیتیں سہیں, میں ان سب باتوں کے لئے, دل سے معافی چاہتا ہوں! — Farah Bhutto, اعتبار کا موسم Copy Share WhatsApp
by Farah Bhutto
Contemporary Fiction · 40 pages
“اشفاق احمد اپنی اس ہمدرد اور احساس والی بیٹی کو ہر وقت دعائیں دیا کرتے۔”
“مگر کالج کے بعد کا سارا وقت وہ کسی گھریلو عورت کی طرح گھر کو سبھالتی'۔”
“میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔”
Im fiction writer & poetess.
“اسے وہ بزرگ یاد آئے تھے اور ان کی پاکستان سے بے انتہا محبت یاد آئی تھی۔”
“ان امیرزادوں کے ساتھ تھوڑا گھوم پھر لو بدلے میں خوشی خوشی شاپنگ کرواتے ہیں۔”
“جس نے آپ کو اپنے مقصد کے لیے استعمال کیا اور جب آپ نے مزید اس کی بات ماننے سے انکار کردیا، تو اس نے بدلہ لیا ہے۔”
“دنیا والے تمھیں غصے کا تیز کہتے ہیں پر میں جانتی ہوں تمھارا دل بہت اچھا ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.