میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔ — Farah Bhutto, اعتبار کا موسم Copy Share WhatsApp
by Farah Bhutto
Contemporary Fiction · 40 pages
“'ہر بار جب امید سے ہوتیں, تو یقین واثق ہوتا کہ اس بار مراد بر آئے گی۔”
“مگر کالج کے بعد کا سارا وقت وہ کسی گھریلو عورت کی طرح گھر کو سبھالتی'۔”
“مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔”
Im fiction writer & poetess.
“ان سب کا اشتعال بجا تھا مگر وہ اپنے نیک دل بادشاہ سے بہت عقیدت رکھتے تھے اور ان کی خوشی کو خاک میں نہیں ملانا چاہتے تھے۔”
“کبھی کبھار بستے میں جھانک کر یوں دیکھتا ،جیسے کوئی اپنی نئی نویلی دلہن کو محبت بھری نگاہوں سے پیار کے سندیسے سناتاہے ۔”
“اسے وہ بزرگ یاد آئے تھے اور ان کی پاکستان سے بے انتہا محبت یاد آئی تھی۔”
“جب جبرائیل گھر پہنچا، تو آج اس کی ماں اور بہن کی جگہ اس کا باپ اس کا انتظار کر رہا تھا،کیونکہ وہ ایک بگڑے بچے کو سبق سکھانے کے لیے تنہائی چاہتا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.