'ہر بار جب امید سے ہوتیں, تو یقین واثق ہوتا کہ اس بار مراد بر آئے گی۔ — Farah Bhutto, اعتبار کا موسم Copy Share WhatsApp
by Farah Bhutto
Contemporary Fiction · 40 pages
“میں اپنی اولاد کو سکھی رکھنے کی کوشش کرتا ہوں مگر ہوں تو عاجز سا انسان...میں تقدیر کے لکھے کو بدل نہیں سکتا۔”
“اشفاق احمد اپنی اس ہمدرد اور احساس والی بیٹی کو ہر وقت دعائیں دیا کرتے۔”
“مروی نوجوانی کی دہلیز پر قدم رکھتی, چھوٹی بہنوں کو بھی اپنی سمجھ کے مطابق ایک ماں کی طرح دنیا کی اونچ نیچ سمجھاتی رہتی۔”
Im fiction writer & poetess.
“چمنی سےاٹھتا رقص کرتا دھواں، اور اس دھویں میں سے چھن کر آتی چاند کی روشنی، کیا سماں ہوتا تھا۔”
“دیکھتے ہی دیکھتے ساری پریاں روشنیوں کے ہالوں میں تبدیل ہو گئیں اور مانٹاہرین کا آسمان روشنیوں میں نہا گیا۔”
“زمین جب شعلے اُگلتی ہے تو آسمان کا بال بھی بِیکا نہیں کر پاتی مگر جب آسمان بجلیاں گراتا ہے تو زمین کا سینہ چھلنی ہو جاتا ہے۔”
“اس کے لئے پہلے.آپ کو انہیں یقین دلانا ہوگا کہ آپ.انہیں جنتی اور جہنمی کی کیٹگری میں ڈال کر نہیں سوچتی بلکہ.ایک مسلمان کی حیثیت سے سوچتی ہو.”
Enter your account email and we'll send you a reset link.