ماں باپوکی آنکھوں میں ٹھہرے آنسواُسے اپنی بے عزتی سے کہیں زیادہ بیش قیمت محسوس ہوتے ۔
— Asma Hassan, اُفق کے اُس پار
“دسمبر کی شدید برف باری میں اپنے گھر کے گرم بستر پر ٹھٹھرتا ہوا، اکھڑتی سانس کے درمیان موت کی آہٹ سن رہا تھا۔”

“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”
