آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ — Saba Ahmad, جہاں آراء Copy Share WhatsApp
by Saba Ahmad
Religious · 30 pages
“جسے سن کر بہت سی عورتوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان ماں بیٹی کا تمسخر اڑایا ۔۔”
“میری امی جان فوزیہ ناہید ، والد ظہور احمد (مرحوم) ، میرے شریک حیات احمد نواز اور میری بیٹی ماہ نور خان کے نام جن کا ہونا میری زندگی میں باعثِ فخر ہے۔”
“جہاں آراء ناگواری سے اس شخص کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے آج اس کا ہاتھ پکڑنے کی جرات کی تھی۔۔”
Meri zaat zar e beneshan
“" "دشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے،مال و جان اور پھلوں کی کمی سے اور ان صبر کرنے والوں کو خوشخبری دیجئے۔”
“فرشتے آتے، اس کا بستر لگاتے، نہلاتے دھلاتے، نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتے اور اس کی خدمت سے خوشی پاتے۔”
“ان امیرزادوں کے ساتھ تھوڑا گھوم پھر لو بدلے میں خوشی خوشی شاپنگ کرواتے ہیں۔”
“ایک بے بس شخص جو تنہائی کی تاڑ میں رہتا ہے ،کہ کہیں سکون مل جائے اور چین کی سانسیں میسر ہوجائیں....اس حالت میں اندھیرے سے بہتر جگہ کیا ہو سکتی ہے!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.