جسے سن کر بہت سی عورتوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان ماں بیٹی کا تمسخر اڑایا ۔۔ — Saba Ahmad, جہاں آراء Copy Share WhatsApp
by Saba Ahmad
Religious · 30 pages
“آج پوتے کے چہرے پر پھیلے سکون کو دیکھنے کے لیے ان کی بےچین نگائیں بار بار گیٹ کی طرف اٹھ رہی تھیں۔”
“ناچارہ وہ خود ہی آگے بڑھا اور اس کا منہ اوپر اٹھایا اور اس کی آنکھوں کے کھلنے کا انتظار کرنے لگا۔۔”
“جہاں آراء ناگواری سے اس شخص کے منہ کی طرف دیکھ رہی تھی جس نے آج اس کا ہاتھ پکڑنے کی جرات کی تھی۔۔”
Meri zaat zar e beneshan
“پیش لفظ پاکستان کی تاریخ میں کسی بھی ادارے یا ناشر نے تصوراتی صنفِ ادب میں ملکی سطح پر مقابلہ منعقد کرنے کی سعی نہیں کی۔”
“دروازے سے چھد کے باہر آتی روشنی نہ اپنا عقیدہ بتا سکتی تھی اور نہ یہ کہ وہ ایک غریب غیر مسلح دیہاتی کے گھر کے دیے کی روشنی ہے۔”
“جس کی وجہ سے آج، ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگ انھیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔”
“'تم نے آج بھی دوپٹہ نہیں لیا ؟ تمہیں پتہ بھی ہے کہ بے پردہ عورت کی اسلام میں کوئی جگہ نہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.