''لو بھئی اپنی اماں بھی خوب ہے دیکھو ذرا روز تمہٖیں دیکھتی ہے پھر بھی اسے خوابوں میں آنے والے جن بھوتوں سے ڈر لگتا ہے۔ — Sehrish Mustafa, زِندگی شرط ہے Copy Share WhatsApp
by Sehrish Mustafa
Contemporary Fiction · 25 pages
“اس کے گھر مرد اپنی عورتوں کے چونچلے نہیں اٹھاتے تھے لیکن ان کی بے عزتی بھی نہیں کرتے تھے یہ ہنر صرف عرفان اصغر بریانی والے کو آتا تھا ۔”
“''وہ کل تو اتوار کی وجہ سے بنی تھی اور آج اماں نے بنوائی ہے رات میں بہت بھیانک خواب دیکھ لیا تھا اسی لئیے آج خیر نکالا۔”
“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”
I love to write.
“" وہ مسکرائی- " تو مایوسی کے کھنڈر میں دب کر مرنے سے بہتر نہیں کہ ہم امید کا دیا جلا کر دوسروں کو بھی روشنی فراہم کریں اور خود بھی روشن ماحول میں زندگی گزاریں؟ .”
“’یہاں آکر جیتنا میرے لئے خواب ضرور تھا لیکن ناممکن نہیں، میرا ہر دن ایک نئی امید سے شروع ہوتا ہے۔”
“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”
“" کیا وہ سب سچ میں میرا خواب تھا؟" وہ اسی شش و پنج میں تھا جب اچانک اس کی نظر اپنے ہاتھ میں بندھی سنہری ڈوری پر پڑی، تو وہ چونک گیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.