’’میری دعاؤں کا اثرنہیں تھا اجمل شاہ تو بددعا میں کیا اثر ہوگا؟‘‘بدریکا جمال نے میسج کیا اور دو آنسو اس کی آنکھوں سے لرز کر گالوں کو تر کر گئے۔ — Maemuna Sadaf, خار/Khaar - Realistic Fiction Book Copy Share WhatsApp
by Maemuna Sadaf
Popular Fiction · 160 pages
“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”
“کسی کے لیے اس سے بڑا کوئی امتحان نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ہو اورجو اس کا گناہگار ہو وہی کہے دعا کرو لیکن محبت کرنے والے ایسے ہی ہوتے ہیں۔”
“بدریکا کے لیے تو محبت ہی دکھ بن چکی تھی اس کے دل میں سوائے بد دعا کے اجمل شاہ کے لیے کچھ نہ تھا۔”
Maemuna Sadaf was born in Rawalpindi, Pakistan , grew up in Rawalpindi and achieved a degree of MBA (Finance) in 2008. Started Writing for Native language (Urdu) newspapers in 2013. As well as, Sta…
“لوگوں کی ہمدردیاں بدل چکی تھیں اور غیرمتوقع نتائج سامنے آۓ تھے۔”
“اِنہی باتوں کی بُھول بُھلیاں میں وہ بھٹک رہا تھا کہ آنکھوں سے ایک موتی چھلک کر رخسار پر گرنے کے بعد ہتھیلی پر ٹھہر سا گیا.”
“بیلما غصے سے پھنکارتے ہوئے آگے بڑھی،اسی لمحے رومی نے اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا ،جس سے وہ تہہ خانے کی چھت سے جا ٹکرائی اگلے پل وہ درد سے تڑپ رہی تھی۔”
“’کیتھرین میں اپنی ماں کی موت پر نہیں پہنچ سکا تھا،نہیں چاہتا کہ اپنے باپ کی بھی صورت دیکھنے کو ترسوں .”
Enter your account email and we'll send you a reset link.