دونوں ملکوں کی فوجوں میں سے کسی کی نظر میں آئے تو گولیوں کا نشانہ بن سکتے ہیں۔ — Muhammad Abubakar, ضدی مسافر - مشن امریکہ پر قبضہ - Thriller Story Book Copy Share WhatsApp
by Muhammad Abubakar
Fiction · 75 pages
“اگر پانی اور گولی ، دونوں سے بچ گئے اور یونان کے کسی سرحدی قصبے میں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو آگے پھر کنٹینر یا چھوٹی گاڑیوں میں بیٹھا کر اوپر سامان لوڈ کر دیا جاتا تھا۔”
“خوش قسمتی سے جو لوگ بچ جاتے، وہ ترکی پہنچ کربند کنٹینروں کے ذریعے اگلے بارڈر پر پہنچائے جاتے ۔”
“بارڈر پر ایجنٹوں کے کارندے ان کی جامع تلاشی لیتے اور کاغذ نام کی ایک بھی چیز ان کے پاس نہیں رہنے دیتے۔”
“انکا ماننا ہے کہ مرد اور عورت کی طرح انکی بھی ایک جینڈر ہے اور انہیں اپنی جینڈر پر کوئی ندامت نہیں۔”
“جس کی وجہ سے آج، ان کے گزر جانے کے بعد بھی لوگ انھیں عزت سے یاد کرتے ہیں۔”
“ایسے میں ایک لمبی، پتلی،جھکی کمر، سفید بالوں والی بڑھیا، جسے لوگ کُٹنی بی کے نام سے یاد کرتے تھے، خاموشی سے سڑکوں پر چلتی پھر رہی تھی۔”
“جسے سن کر بہت سی عورتوں نے آنکھوں ہی آنکھوں میں ان ماں بیٹی کا تمسخر اڑایا ۔۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.