اس کے باوجود اس کے باوجود میں خاموشی سے اٹھتا ہوں اور اپنی ای در یک کو دریا میں ڈال دیتا ہوں۔
— Ibteda Aur Daastan, نقوش - نمبر میر تقی میؔر - Urdu Literary Magazine
“جہاں دن کے وقت قدرتی روشنی پورے کمپلیکس کو منور کر دیتی ہے، وہیں رات کے وقت جا بجا نصب لائٹ فکسچرز سے حیدر علی کلچرل سینٹر جگمگا اٹھتا ہے۔”

“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
