والدین سے ملی وراثت کہہ لیں یا پھر خود کی شخصیت میں اِک چُھپا جنون کہ انھوں نے صرف خود کو یا تو خطاطی، مصوری یا پھر اپنی عمر سے بڑے درجے کی کتابیں پڑھنے کی کوشش میں پایا۔
زندگی کے ان چوبیس سالوں میں کب اپنی ذات کی تعمیر کے لیے تحریر کا سہارا لے لیا خود بھی نہیں جانتی۔شاید اُسی دن سے جس دن سے ہوش سنبھال لیا اور بچپن کھو دیا یا یوں کہوں کہ ہوش سنبھالنے کے چکر میں ابھی…