ایک امید تھی کہ شاید آج مثبت جواب مل جائے، مگر پِھر بھی شاہ زیب کی ناں کو ہاں میں نہیں بدل سکے تھے۔ — Zainab Taqvi, اصل داستان تم ہو / Asal Daastan Tum Hu Copy Share WhatsApp
by Zainab Taqvi
Fiction · 30 pages
“چند دہشتگردوں کی وجہ سے یہ ملک چھوڑ دیں؟ میرے لوگ ہزار اختلافات کے بعد بھی مشکل وقت میں متحد ہوتی ہے۔”
“کوئی بہن کھو کر آیا تھا کسی نے اپنی ماں کو اپنی نظروں کے سامنے مرتے ہوئے دیکھا تھا، مگر ہر مرنے والے کی داستان کے ساتھ ایک امید کا نام جڑا تھا۔”
“"تو کیا وہ جو کچھ میرے ساتھ پیش آیا وہ محض خواب تھا؟" شاہ زیب گھر آنے تک خود سے سینکڑوں بار سوال کر چکا تھا۔”
“اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آرہی تھی وہ اپنا دین بدلنا چاہتی تھی.”
“لکھنا ان کے لیے محض شوق نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے لوگوں کی زندگی میں کچھ بدلاؤ لانے کا کیونکہ الفاظ ہی جذبات کو آواز دیتےہیں۔”
“جدھر دیکھا اسے پایا جہاں پہنچے اُسے دیکھا یونہی اُلجھاتے رہے رات بھر ہم کو وہی سو درآج یادوں نے رُخ بدلا ہے اک محور نیا ڈھونڈا اُسی جانب ہی اُڑ چلے ۔۔”
“بچپن سے یہی چیزیں اس کے استعمال میں رہی تھیں اور کشاف زیادہ چیزیں بدلنے کا شوقین بھی نہیں تھا لیکن وہ اس چھوٹے سے کمرے میں لیٹا بہت بڑے بڑے خواب ضرور دیکھتا تھا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.