ایک سچا سجدہ، کچھ پچھتاوے کے آنسو اور دل سے مانگی ہوئی معافی۔ — Gul Arbab, فسوں کدہ / Fasoon Kada Copy Share WhatsApp
by Gul Arbab
Religious · 48 pages
“دل پر کیا گزری کب کب کن لمحات میں رانو کی یاد آئی اور کیسے خود کو سنبھالا، کب کب اپنے رب سے فریاد کی۔”
“اصراف میرے رب کوپسند نہیں اس لیے میں وہ کام کرتی ہوں جس میں میرا رب خوش ہو اور وہ ہے تحفہ دینا، میرا تو اس بھری دنیا میں سوائے آپ کے کوئی اور ہے ہی نہیں۔”
“دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔”
گل ارباب کا تعلق خیبر پختونخواہ پشاور سے ہے ۔۔ لکھنے کی ابتدا انھوں نے بچوں کی کہانیوں سے کی پھر شاعری کالم نگاری افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ۔ کئی ڈائجسٹسس اور ادبی میگزینز م…
“سفر نے مجھے بہتر انسان بنایا تھا — کم از کم میں خود کو اب پہلے جیسا نہیں سمجھتا تھا۔”
“ایسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں، اور جب چلے جاتے ہیں تو اپنے پیچھے صرف یادیں نہیں، بلکہ محبت، علم، اور کردار کی روشنی چھوڑ جاتے ہیں۔”
“اس حقیقت سے آشنا ہوتے ہوۓ کے ہم آپکو اس کے بدلے میں کچھ نہ دے سکیں گيں؟"مسز عمیر" خدا نے میری کوکھ کو خالی رکھ کر بھی مجھے ایک ماں کا دل دیا ہے.”
“کیا میں بھی الله اور اس کے رسول ﷺ سے ایسی سچی محبت کا دعویٰ کرسکتی ہوں؟ میری تو ساری دنیا ہی جھوٹ پر مبنی ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.