دل ہی دل میں اس منظر کی رنگینیاں میرے جسم و جاں کو گد گدا رہی تھیں، جب میں نے اس کی نازک صراحی دار گردن میں اپنے ہاتھوں سے یہ لاکٹ اور چین پہنانی تھی۔ — Gul Arbab, فسوں کدہ / Fasoon Kada Copy Share WhatsApp
by Gul Arbab
Religious · 48 pages
“ایک سچا سجدہ، کچھ پچھتاوے کے آنسو اور دل سے مانگی ہوئی معافی۔”
“اصراف میرے رب کوپسند نہیں اس لیے میں وہ کام کرتی ہوں جس میں میرا رب خوش ہو اور وہ ہے تحفہ دینا، میرا تو اس بھری دنیا میں سوائے آپ کے کوئی اور ہے ہی نہیں۔”
“اسی لمحےشاید میری کشمکش سے با خبر رانو کہیں سے آ گئی تھی کیونکہ پیچھے سے کندھے پر ایک ریشمی ہاتھ کا لمس مجھے احساس دلا رہا تھا کہ رانو مجھے حوصلہ دے رہی ہے۔”
گل ارباب کا تعلق خیبر پختونخواہ پشاور سے ہے ۔۔ لکھنے کی ابتدا انھوں نے بچوں کی کہانیوں سے کی پھر شاعری کالم نگاری افسانہ نگاری اور ناول نگاری میں بھی طبع آزمائی کی ۔ کئی ڈائجسٹسس اور ادبی میگزینز م…
“کہتے ہیں کہ دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی ایوارڈ نہیں ہوسکتا کہ لوگ آپ کی تربیت کی وجہ سے آپ کے والدین کی تعریف اور عزت کریں۔”
“مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے .”
“ہاں وہاں ایک بڑا نِیم کا درخت بھی تھا جو کہ بڑی خوشی سے ہَوا میں جُھوم رہا تھا.”
“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.