ہم دنیا حاصل کرنے کی ہوس میں اپنوں کا ہی گلا کاٹ رہے ہیں ...آنے والے وقت میں ساری ذمے داری تم نوجوانوں پر آرہی ہے . — Hasan Ahmed, Rehnuma - Inspirational Story Book in Urdu Copy Share WhatsApp
by Hasan Ahmed
Contemporary Fiction · 60 pages
“دونوں اسکول کے بعد ساتھ کام کرنے لگے ،اور جعفر اس ہوٹل کی نوکری سے کہیں زیادہ کمانے لگاجس سے اسکے گھر میں بھی خوشحالی آ گئی .”
“انکا جذبہ دیکھ کر محلے کے بچے بھی انکے ساتھ ہاتھ بٹانے لگے .محسن ایک جگاکھڑا ہو کر یہ سب دیکھ رہا تھا .اسکو دل ہی دل میں بہت خوشی ہورہی تھی .”
“محسن نے بغور دیکھا کہ عمر بڑے آرام سے گھر کا گیٹ بند کر رہا ہے ،جیسے کہ گھر میں کسی کو پتہ نہ چلے کہ وہ باہر جا رہا ہے .”
A city guy wants to live in wilderness...
“زندگی کا سب سے خوبصورت دن جب سورج کی کرنوں کو رب کائنات کے گھر پر قربان ہوتے دیکھا کس قدر معتبر ہورہا تھا سب کچھ وہ صرف روتی رہتی ..”
“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”
“اس کی زندگی میں بہت بڑی تبدیلی آرہی تھی وہ اپنا دین بدلنا چاہتی تھی.”
“مجھے بخوبی علم تھا کہ صحیح قسم کی بیوی ایک قانون دان کے پیشہ ورانہ زندگی کو آگے بڑھانے میں کس حد تک اہم ہو سکتی ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.