جانتے ہیں جب کسی زینب کے سا تھ زیادتی ہوتی ہے تو میں زیادتی کرنے والے سے زیادہ ان والدین کو ظالم سمجھتا ہوں جنہوں نے ان درندوں کے سامنے اپنی اولادیں پھینک رکھی ہیں۔
— Monaa Sohail, اک کرن اندھیروں میں / Ik kiran andhero'n mai- Childhood Trauma Book
“دماغ کے ڈاکٹر کو دکھایا، خود بھی اسے سمجھایا اور اس کے لیے گھر میں استا د بھی رکھے جو اسے مردوں والے طور طریقے سکھاتے لیکن سب بیکار گیا۔”

“نجمہ اور سالار احمد شیری کو اپنے ساتھ کہیں باہر نہیں لے جاتے تھے تو وہ بھی ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ کرکے گھر پر ہی رک جاتی۔”

“انسان اپنی عقل اور تدبیر پربھروسہ کرتا ہے مگر یہ بھول جاتا ہے کہ ایک تدبیر کرنے والا اوپر بھی ہے جو سب سے بہتر تدبیر کرتا ہے۔”

“ایک وہ انسان بہت خوش قسمت ہے جس کی غیر موجودگی میں لوگ اسکی عزت کریں اور دوسرا وہ جس کے جانے کے بعد اسکی یاد میں تنہائی میں آنسو بہائے جائیں اور سوچا جائے کہ اتنی جلدی۔۔”
