اسے ڈر تھا کے ایسے اس کی اور اسکی بیٹی کی بہت بدنامی گی اور پھر شازیہ کی زندگی ایک مذاق بن کر رہ جایے گی.
— Faseehullah Irshad, آغاز زیست
“میں آج سمجھ گیا ہوں یہ گھر تیرا نہیں تھا، جہاں تیرے ماں باپ کی غریبی کاٹتے کاٹتے تیری عمر کٹ گئی اور ہم تجھے اس کا صلہ بھی نہ دے پائے۔”

“کسی نظارہ کرتی متفکر آنکھ کے لیئے”دُم دار ستارہ“بن جاؤ!(دُمدار ستارے کی جو بھی توضیح ہو)وہ لمحے بھر کے لیئے وارفتگی، استعجاب، اُمید اور مسکراہٹ کا باعث بنتا ہے اوردنیا خوبصورت لگنے لگتی ہے۔”
