پرویز کو لگا تھا کہ جس دن زرمینہ کی ماں اس دنیا سے گئی تھی قیامت اُس دن آئی تھی، پر وہ غلط تھا قیامت نےتو آج آنا تھا۔
— Amna Shehzadi, لال دوپٹہ/ Laal Dupatta
“شنایہ کے چہرے پر کچھ بیزاری آئی لیکن اُس نے رخسار اور ڈرائیور کی بات پر کوئی کان نا دھرے اور بد ستور اپنے موبائل میں مصروف رہی۔”

“بہار بیگم کی موت کے بعد کوٹھے اور محفلوں کی باگ دوڑ شنایہ نے سنبھال لی تھی، اور رخسار نے شنایہ کی خود سری کے آگے ہتھیار ڈال دیے تھے۔”

“اسے اطمینان ہوا کہ اس کے اقدام سے اس بے چاری عورت کی زندگی بھی سنور جائے گی وہ اپنے دل کی آواز کو دبانے کے بجائے اس کے مطابق زندگی گزارے گی۔”

“مشکل وقتوں میں وہ ہمیشہ میرے ساتھ کھڑے رہے—چاہے وہ ذاتی زندگی کا مسئلہ ہو، تعلیم سے متعلق ہو یا کوئی اور چیلنج۔”
