"احسان فراموش باقیوں سے تو بہتر ہی ہیں سرعام عزتیں پامال نہیں کرتے اپنی" وہ طنزیہ مسکرائی اور ساتھ ہی بیگ گھسیٹے گھر کی دہلیز پار کر گئی.
— Ifra Ahmed, بکهرے موتی
“مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے .”

“مختلف اٹیندنٹس ایک دوسرے کو جانچتی نظروں سے " تعلقات کیسے رکھنے ہیں؟" کے طور پر پرکھ رہے ہیں اور میں مسکرا کردوبارہ اپنے نوٹس میں گم ہوگئی۔”
