مجھے یاد ہے یہ لکڑی کا بھاری دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا تھا ، اور اِس گھر کے مکین ہر آنے والے کو کھلے دِل اور مسکراہٹوں سے خوش آمدید کہتے تھے . — Bookay Crew, Bookay 2018 Copy Share WhatsApp
by Bookay Crew
Anthology · 100 pages
“ایسی محبت رات کے پچھلے پہر جاگ اٹھنے والے داڑھ کے درد کی طرح تکلیف دہ ہوتی ہے، مگر آپ اس درد کے گرد طواف کرتے زندگی نہیں گزارتے۔”
“There are many different kinds of confusionsBut the one that arises in your heart when you don't know the bad from the worstIs the scariest.”
“اس کٹیا سے ھر شام اٹھتی دھویں کی لکیر کو میں نے زندگی کا استعارہ کب سمجھنا شروع کیا، شاید مجھے خود صحیح اندازہ نہیں ہے۔”
“نثر کی محفل میں ان کی شرکت یقینی ہوتی ہے تاہم مشاعرے میں غزل یا مزاحیہ نظم سنانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔”
“کپڑے بدل کے ارحم کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آگئی تھی، آخر کو تھا تو وہ بھی بچہ ہی نا۔”
“"اچھا مگر کس کے ساتھ؟ رنگ کدھر ہیں؟" وہ مذاق سمجھ کے ہنسا پر اگلے ہی لمحے ایمان کے ہاتھ میں رائفل دیکھ کر اُس کا چہرہ تن گیا ۔”
“اب وہ سوچ رہا تھا کہ آپا کو سچ میں اس سے کتنی محبت ہے،کہ اس کے لیے دیر تک کالج کے گیٹ پر کھڑی رہیں اور اس کے نظروں سے اوجھل ہو جانے تک مسکرا کر الوداع کہتی رہیں۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.