ایسا سمندر جو کبھی چین نہیں پاتا، جس میں ہمیشہ لہریں مدھوشی اور رنج کا ساز گنگناتی رہتی ہیں. — Faisal Khattak, آئینہ چار سو کا Copy Share WhatsApp
by Faisal Khattak
Fiction
“ویسے اجنبی شخص کسی جیت یا ہار سے کم نہیں ہوتا، جیت جائو تو بھی اور اگر ہار جائو تو بھی فائدہ.”
“آگے ہی کچھ قدم کے فاصلے پر، جہاں یہ راستہ ختم ہوتا تھا، دائیں طرف سے ہلکے ہلکے سُنہرے رنگ کی روشنی نُمایاں ہو رہی تھی.”
“ہاں وہاں ایک بڑا نِیم کا درخت بھی تھا جو کہ بڑی خوشی سے ہَوا میں جُھوم رہا تھا.”
i am a student of english literature.
“ابھی چند ماہ پہلے ہی کی تو بات تھی جب وہ خوشی خوشی پیزا بنایا کرتی تھی اور پیزا بناتے ہوئے چشم زدن میں خود کو اجمل شاہ کے گھر پایا کرتی۔”
“آمنہ خاموشی سے آپی کو سنے جا رہی تھی، جھنجھلاہٹ ختم ہو گئ تھی، سوالوں کا سمندر پر سکون تھا۔”
“ٹھنڈی ہواؤں اور گہرے کالے بادلوں کے ساتھ وقفے وقفے کی بارش نے نہ صرف موسم خوشگوار کر دیا بلکہ ہر چیز کا مزہ دوبالا کر دیا۔”
“ہسپتال سے جانا بھی ایسے ہی خوشی کا باعث ہوتا ہے جیسے قید سے رہائی ملی ہو!”
Enter your account email and we'll send you a reset link.