ہاں وہاں ایک بڑا نِیم کا درخت بھی تھا جو کہ بڑی خوشی سے ہَوا میں جُھوم رہا تھا. — Faisal Khattak, آئینہ چار سو کا Copy Share WhatsApp
by Faisal Khattak
Fiction
“میں پھر اُس بلب کی طرف دیکھنے لگا....وہ سنہرا بلب جو کہ اپنی پوری جفاکشی کے ساتھ اپنے اِرد گِرد کی سیاہی کو مِٹانے میں مصروف تھا.”
“ویسے اجنبی شخص کسی جیت یا ہار سے کم نہیں ہوتا، جیت جائو تو بھی اور اگر ہار جائو تو بھی فائدہ.”
“ایسا سمندر جو کبھی چین نہیں پاتا، جس میں ہمیشہ لہریں مدھوشی اور رنج کا ساز گنگناتی رہتی ہیں.”
i am a student of english literature.
“اُسے زاہد اور ظہیر کی اپنی کمپنی میں شمولیت کی زیادہ خوشی نہیں تھی کیونکہ اُسے اپنے گھر کے افراد کی کمزوری کا پہلے سے اندازہ تھا۔”
“خوش قسمتی سے جو لوگ بچ جاتے، وہ ترکی پہنچ کربند کنٹینروں کے ذریعے اگلے بارڈر پر پہنچائے جاتے ۔”
“اماں کا بس ایک ہی بھائی تھا مگر گھر کے بکھیڑوں میں الجھی اماں خوشی غمی کے موقع پر ہی اس سے ملتی تھی اور ادھر سے بھی ایسی کوئی چاہ نہ تھی ۔”
“ایک بے حد اچھی اور بہت پیاری دوست کی طرف سے محبت کی یہ چھوٹی سی نشانی پا کر جو خوشی ہوئی وہ بیان سے باہر ہے۔”
Enter your account email and we'll send you a reset link.