Check out our most recent publications
علم التعلیم کی حقیقت - Ilm Ul Taleem Ki Haqeeqat- Philosophy of Education book in Urdu
Free sample · no sign-up

علم التعلیم کی حقیقت - Ilm Ul Taleem Ki Haqeeqat- Philosophy of Education book in Urdu

by Muhammad Nasir Khan

You are reading the first 30% of this book. Buy the e-book to keep going — it unlocks instantly and reads in your browser.

30% of the book — free to read

 

 

علم التعلیم کی حقیقت

 

ڈاکٹر محمد ناصر خان

پوسٹ ڈاکٹریٹ (ویانا)

 

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان

کتاب کے جملہ حقوق بحق مصنفہ اور ناشر محفوظ ہیں۔

اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر چھپوایا اور
فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں میں مختصر اقتباسات کے
استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔

 

اشاعت اوّل ٢٠٢۲ء    

 

مطبع: پکسلز پرنٹنگ سولیوشن

ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان

www.Daastan.com

 

*

مدیرہ

نرمین سرھیو

ــــــ

گرافک ڈیزائنر

انعم امیر

ــــــ

سرورق کے جملہ حقوق مصنف کے نام محفوظ ہیں۔

 

ادھوری داستان ہے نظام تعلیم ہمارا

مغرب کی تقلید میں زبان غیر کا سہارا

 

اِنتساب

سکول جاتے بچوں کے نام!

 

چند الفاظ

علم التعلیم کے طالب علم ہونے کے حیثیت سے مغربی ممالک کا سفر کیا جہاں اعلی تعلیمی اداروں میں نظام تعلیم کو مشرقی ممالک میں رائج نظام تعلیم سے مواز نے کا موقع ملا ۔میں نے مسلم دنیا کو درپیش تعلیمی اور معاشرتی مسائل کو اشعار اور حکایات کی صورت میں اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ یہ علمی کاوش مفید ثابت ہوگی۔

 

ڈاکٹر محمد ناصر خان                

شعبہ تعلیم ،بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد

ای میل : nasiriiu786@gmail.com   

 

فہرست

05

دانائی اور علم التعلیم کا باہمی ربط

11

علم کی تعریف

12

جہالت کی تعریف

13

مثنوی تعلیم

23

حکایاتِ تعلیم

24

فن

25

ووٹ

26

فطرت

27

تلاش

28

نااہلی

29

بولی

30

محتاج

31

عزت

32

جلوہ

33

عزتِ نفس

34

بیچارگی

35

اُڑان

36

خصلت

37

پیشہ

38

سیکھنا

39

بھلائی

40

خُوشحالی

41

ظُلم

42

حُکمرانی

 

دانائی اور علم التعلیم کا باہمی ربط

                                لفظ" حکمت" (دانائی) قرآن مجید میں موجود ہے ۔  "ہم نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اﷲکا شکر گزار ہو" سورة لقمان (31:12 )۔میں یہ سمجھتا ہو ں کہ لفظ دانائی انسانی تاریخ سے وابستہ ہے ۔ دنیا کی ہر معاشرت،مذہب اور تاریخ اس لفط کو زیر بحث لاتی ہے۔ آنے والی نسلوں کو دانائی سے نواز نا ہر قوم کا منشور رہا ہے ۔یہ لفظ اپنے مفہوم اور عمل میں بھی ہمیشہ سے زیر بحث رہا ہے ۔ میرے نزدیک دنیا کا ہر مذہب ،معاشرت اپنی اقدار اور روایات میں دانائی کی علمبردار ہے۔ دنیامیں تدریس و تحقیق کے تمام تر خدوخال کو علم التعلیم ہی زیر بحث لاتی ہے ۔ گویا دانشمندی کے عمل کو فروغ دینے میں علم التعلیم کاکردار مثالی ہے۔ اگر دانشمندی کے فروغ کو دانائی کہا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دانائی کی بنیادوں کا انحصار علم التعلیم پر ہے۔

                                علم التعلیم پر گفتگو انسانی تاریخ سے وابستہ ہے ۔ علم کے حصول کا انحصار ضرورت اور جستجو پر ہے ۔ ضرورت جستجو کو جنم دیتی ہے ۔میرے نزدیک جستجو کی دو اقسام ہیں ۔i ۔ظاہری ii ۔باطنی۔ ظاہری جستجو سے حاصل کردہ علم انسان کو ماحول سے مطابقت سکھاتا ہے۔ جب کہ باطنی جستجو سے حاصل کردہ علم انسان کو بصیرت بخشتا ہے ۔جب کہ جسمانی اور وقتی ضرورت کے تحت ظاہری جستجو سے علم کا حصول ہر لمحہ ہر انسان کی زندگی کا حصہ ہے ۔ یہ وہ ظاہری جستجو ہے جو انسانوں کے علاوہ جانوروں اور پرندوں کی زندگی کا بھی حصہ ہے ۔

                  باطنی جستجو کی صلاحیت دنیا میں صرف انسان کے پاس ہے۔ باطنی جستجو شعوری صلاحیتوں کو فروغ دیتے ہوے انسان میں اُس علم کے حصول کا باعث بنتی ہے جو تحقیق پر مبنی ہوتا ہے۔ باطنی جستجو وہ مخفی صلاحیت ہے جسے برو ئے کار لانے کے لیے باقاعدہ ایک تربیتی نظام کی ضرورت ہے ۔وہ تربیتی نظام جو انسانوں کو حیرت میں ڈال دے، باطنی جستجو کو اجاگر کرنے کا باعث بنتا ہے ۔حیرت انسان کو غور کرنے پر مجبور کرتی ہے اور غور کرنے سے مشاہدہ جنم لیتا ہے ۔جب کہ مشاہدہ تجربے اور تحقیق کو وجود دیتا ہے۔ وہ تدریس جو طالب علم کو حیرت میں نہ ڈالے کبھی باطنی جستجو کو اجاگر نہیں کرتی ۔باطنی جستجو وقت پر کھانے اور شدت پیاس میں پانی کی طلب کے برابر انسان میں غور کرنے کی طلب پیداکرنا ہے ۔ایسا غور جو انسان کو کسی موضوع پر نامعلوم سے معلوم کی طرف لے جائے۔

                                علم ،تعلیم اور تربیت کا آپس میں گہرا ربط ہے۔ علم ،تعلیم کے بغیر تربیت کا کبھی حصہ نہیں بن سکتا۔ علم اور تعلیم کے ربط کو سمجھے بغیر تربیت ناممکن ہے ۔علم کی فطرت تعلیم سے وابستہ ہے۔ تعلیم کو سمجھے بغیر علم کا پر چار نادانی ہے۔ صرف الفاظ کا تصور علم نہیں ۔علم کی بنیادتعلیم پر ہے ۔تعلیم ہی علم کو قابل فہم اور قابل عمل بناتی ہے ۔کسی تخیل کو قابل فہم بنانے کا انحصار تعلیم پر ہے ۔میرے نزدیک تعلیم ہی الفاظ کو وہ طاقت بخشتی ہے کہ وہی الفاظ انقلاب کا باعث بنتے ہیں ۔علمی گفتگو کا مقصد حاصل کردہ علم کو وہ ترتیب دینا ہے کہ مقصد حل ہو جائے ۔علم کی روح تعلیم ہے۔ علم وہ خام مال ہے جو تعلیم کی بھٹی میں پک کر انسانی شخصیت پر ا س طرح اثر انداز ہو تا ہے ۔کہ وہ کبھی ابن سینا بن جاتا ہے اور کبھی افلاطون۔ بغیر تعلیم کے علم کبھی بھی تربیت کے راستوں کا انتخاب نہیں کر سکتا۔زندگی کے کسی بھی معاملے میں علم کے ہوتے ہوئے بھٹک جانا تعلیم کی غیر موجودگی کی گواہی دیتا ہے ۔علم راستہ بناتا ہے جب کہ اس راستے پر چلنے کے انداز کا تعین تعلیم کرتی ہے۔ علم روشنی ضرور ہے مگر اس روشنی سے منزل کے حصول کا تعین تعلیم کرتی ہے ۔کسی حکمران نے ملکی مفاد میں فیصلہ نہیں کیا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ملکی مفاد کا علم نہیں رکھتا بلکہ اس کا حاصل کردہ علم تعلیم کے بغیر تھا جو بے اثر تھا اور اس کی تربیت نہ کر سکا۔

                                تعلیم ہی علم کو پر اثر بنا تی ہے ۔تربیت کے پر کشش ہونے کا ا نحصار تعلیم کے پر اثر ہونے پر ہے ۔یہ بات انسانی تاریخ سے وابستہ ہے کہ علم ہونے کے باوجودلوگ نسل درنسل بھٹکتے رہے ۔خانہ بدوش لوگوں کی زندگی اس بات کی گواہ ہے کہ بازاروں میں بھیک مانگنے والے جانتے ہیں کہ بھیک مانگنا عزتِ نفس کی تذلیل ہے اور معاشرے میں باعث ندامت ہے مگر وہ نسل درنسل بھیک مانگ رہے ہیں۔ جس علم کو پر اثر انداز میں متعارف نہ کرایا جائے اس علم سے تبدیلی کی توقع رکھنا نادانی ہے ۔چو ر جانتاہے کہ چوری جرم ہے مگر وہ پھر بھی چوری کرتاہے آخر اس کے جاننے میں وہ کونسی کمی ہے جو اس کے جاننے کو پر اثر نہیں بنا سکی اور یہی تعلیم کا موضوع اور مقصد ہے کہ علم کس طرح مﺅثر ثابت ہو کہ انسانی شعور اور اعمال کا حصہ بن جائے کی۔کیا علم کو دانائی کہہ سکتے ہیں ؟ کیا صرف علم سے شعوری تربیت ممکن ہے؟ شعوری تربیت میں تعلیم کا کیا کردار ہے ؟ کیا علم ، تعلیم اور تربیت کے باہمی ربط کو سمجھے بغیر کسی معاشرے کو کامیاب کہا جا سکتا ہے؟

                                دنیا کا ہر فلسفہ حیات ،معاشرت اور مذہب دانائی کو انسانیت کی پہچان قرار دیتا ہے ۔دانائی کی تاریخ اورتعریف دنیا کے ہر خطے میں مختلف ہے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ علم ،تعلیم اور تربیت کا کسی شخص کو دانا بنا نے میں کیا کردار ہے۔

علم وہ خزانہ ہے جس کی تلاش روز اول سے انسانی فطرت میں ہے ۔ہاورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر پال ہارس (Paul Harris ) کہتے ہیں کہ یہ بات پچھلے دو ہزار سال سے فلاسفر ز کے لیے زیر بحث ہے کہ جاننے سے کیا مراد ہے ۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ٹینا گروٹزر (Tina Grotzer )کہتی ہیں کہ علم دو طرح کا ہے ایک تصوراتی علم (Conceptual Knowledge )ہے اور دوسرا باضابطہ علم (Procedural Knowledge )ہے ۔ہمارے دماغ میں خیالا ت اور معلومات کی ترتیب،ترکیب اور تعمیر تصواراتی علم کہلاتی ہے جب کہ حاصل کردہ علم کی بنیاد پرہماری کارکردگی باضابطہ علم کہلاتی ہے یہ حقیقت ہے کہ تصوراتی علم باضابطہ علم کو وجود بخشتاہے ۔مسلم فلسفی الزر نوجی(Al

Zarnuji ) اپنی کتاب تعلیم المتعلم میں لکھتے ہیں کہ علم دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو معاشرے کی بقاءکے لیے ضروری ہے اور اس کا حصول پورے معاشرے کے لیے ضروری ہے۔ دوسرا وہ جو کوئی شخص انفرادی دلچسپی کے تحت حاصل کیا جاتا ہے۔

                                میرے نزدیک تخیلات کا پیدا ہونا انسان کی فطرت میں ہے۔ تخیل کے لیے کسی منطق کی ضرورت نہیں۔ جب کہ تخیل بغیر منطق کے تصور میں نہیں بد ل سکتا ۔جب تخیل تصور میں بدلتی ہے تو ممکنات جنم لیتی ہیں۔ اور جب کوئی ممکن عملی شکل اختیا رکر جائے تو باضابطہ علم بن جاتا ہے۔انسانی شعور میں تخیل سے تصور کا سفر باقاعدہ تربیت پر منحصر ہے ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بچے کو لفظ سچائی سے متعارف کرا دینے سے کیا تصور اتی علم حاصل ہو جاتا ہے ؟کیا الفاظ کے تصور کو تصوراتی علم کہا جا سکتا ہے ؟

                                میرے نزدیک تصوراتی علم اُس صورت میں ہو گا جب طالب علم اس کو زیر بحث لاسکے اور اس کے متعلق سوالات اٹھا سکے اور اپنی رائے کا اظہار بھی کر سکے ۔پروفیسر ایڈورڈ میکری (Edward Machery )جو امریکہ کی یونیورسٹی پیٹرز برگ(Pittsburgh University ) سے وابستہ ہیں کہتے ہیں کہ دانائی ،علم اور تفہیم کے نظریات کو پلاٹو کے زمانے سے عالمگیر سمجھا جاتا ہے ۔اگر چہ سقراط اور پلاٹودانائی کی کسی ایک تعریف پر یک زبان نہیں ہیں تا ہم ارسطو نے تصوراتی دانائی اور علمی دانائی کا تصور دیا ہے ۔یہ ضروری ہے کہ ہمیں الفاظ کے مطلب ،چناﺅ ،بناوٹ اور ادائیگی کے اس معیار کو ضرور جانچنا ہو گا جو کسی شخص کے دانا یا بیوقوف ہونے کا باعث بنتا ہے ۔میری نظر میں صاحب علم سے دانا ہونے کا انحصار علم التعلیم پر ہے ۔کیونکہ یہ علم التعلیم ہی ہے جو کسی مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے الفاظ کے صحیح انتخاب اور ادائیگی کو زیر بحث لاتی ہے

 "وہ بات کو سمجھا نہیں سکتا"۔

"اسے بات کرنے کا طریقہ نہیں "۔

"اس کی باتوں میں وزن نہیں "۔

                                یہ وہ فقرات ہیں جو ہمارے معاشرے کے تقریبا ہر گھر میں زبان زدِ عام ہیں ۔یہی الفاظ ایک دوسرے سے  نفرت اور دوریوں کا باعث بھی بنتے ہیں ۔ان تمام فقرات کا تعلق علم التعلیم سے ہے ۔ سمجھنے سمجھانے اور بات میں وزن پیدا کرنے کا فن علم التعلیم کا موضوع ہے۔کسی کی حقیقت شنا سائی کو دانائی کا رتبہ دیا جاتا ہے ۔حقیقت پسندی اور حقیقت شنا سائی دونوں انسانی فطرت کا حصہ ہیں ۔کسی کو حقیقت پسند اور حقیقت شنا س بنانے میں استاد کا کردار سب سے اہم ہے ۔میرے نزدیک حقیقت پسندی معاشرتی تعمیر اور سوچ کی تعمیر میں ربط پیدا کرنا ہے اور جب یہ ربط عملی شکل اختیار کر جائے تو انسان حقیقت شناس بن جاتا ہے ۔میں نے حقیقت پسندی اور شناسائی میں استاد کے کردارکو ایک غزل کا رنگ دیا ہے۔

 

نگاہِ معلم سے آشیانہ بدلتا دیکھا

نگاہ ِمعلم سے آستانہ بدلتا دیکھا

That’s the end of the free sample

You have read 30% of علم التعلیم کی حقیقت - Ilm Ul Taleem Ki Haqeeqat- Philosophy of Education book in Urdu. The full e-book picks up right where this stopped.

  • Unlocks the moment your payment clears
  • Reads in any browser — nothing to install
  • Muhammad Nasir Khan earns a royalty on every copy
Buy the e-book — Rs 500

See all editions, reviews and details

علم التعلیم کی حقیقت - Ilm Ul Taleem Ki Haqeeqat- Philosophy of Education book in Urdu Buy — Rs 500