12% of the book — free to read

وہ بہری نہیں تھی؟
محمد جہانگیر بدر

کاپی رائٹ ۲۰۲۲ء داستان
جملہ حقوق بحق مصنف اور ناشر محفوظ ہیں۔
اس کتاب کا کوئی بھی حصہ ناشر کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر
چھپوایا اور فروخت نہیں کیا جا سکتا۔ تنقیدی مضامین اور تبصروں
میں مختصر اقتباسات کے استعمال پر یہ پابندی لاگو نہیں ہوتی۔
اشاعت اوّل: ٢٠٢۲ء
ناشر: داستان پبلشرز، پاکستان
مدیران
نرمین سرھیو (مدیرۂ اعلیٰ)
فریال زہرا (مدیرۂ معاون)
سرورق
محمد جہانگیر بدر
انتساب
سماعت سے محروم تمام افراد ، ان کےوالدین اور ان کے معالجین (آڈیالوجسٹ) کے نام......
دیباچہ
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 466 بلین وہ لوگ ہیں، جو سماعت میں کمزوری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ، اور اس کے بڑھنے کا امکان ہے۔.بچے پہلے آوازوں کو سنتے ہیں پھر ان آوازوں کی نقل کرتے ہوئے ان آوازوں کو سمجھتے ہیں پھر زبان سیکھتے اور بولتے ہیں...
سماعت میں مسئلہ آوازوں اور آوازوں کے لیے بچے کی حساسیت کو محدود کر سکتی ہے اور اس میں رکاوٹ ڈال سکتی ہے۔سننا بچے کی نارمل نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ سماعت کی کمی بچوں کی جسمانی تندرستی،نیز ان کی سماجی اور جذباتی نشوونما اور سیکھنے میں تاخیر پیدا کرسکتی ہے۔
غیر علاج شدہ سماعت کے نقصان سے زبردست معاشی اور سماجی نقصانات ہوتے ہیں اور اس کا براہ راست روزمرہ زندگی پر اثر ہوتا ہے۔
مریض کی زندگی کا معیار (QL) اس عالمی نقصان کے ذریعے سست ہو جاتا ہے اس کے علاوہ یادداشت میں کمزوری بھی ان میں شامل ہے ۔
کوکلیئر امپلانٹیشن ایک ایسا عمل ہے جس سےبالغوں اور بچوں میں سماعت کے نقصان سے نمٹا جاسکتا ہے.کوکلیئر امپلانٹس (CI) کو سب سے پہلے 1984 میں اسی سال کے بالغ کے ممکنہ علاج کے طور پر منظور کیا گیا تھا۔فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کی طرف سے دونوں کانوں میں ، شدید سے شدید ترین سماعت میں کمی کے ساتھ بالغ افراد کیلئے ابتدائی طور پر منظوری دی گئی. اس کے بعد سے، کوکلیرامپلانٹ کے لیے درخواستوں میں اضافہ ہوتا گیا. اب فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن کے مطابق روایتی کوکلیرامپلانٹ بالغوں اور 12 ماہ یا اس سے زیادہ عمر کے بچوں کے لیے جو شدید یا شدید ترین سماعت کے مسئلے کا شکار ہو، طریقہ علاج ہے ۔ایک کثیر الشعبہ کی ایک ٹیم جس میں متعدد پیشہ ور افراد شامل ہوتے ہیں، جن میں آڈیولوجسٹ، سپیچ تھراپیسٹ، ناک کان گلے کےڈاکٹر( سرجن)، ترجیحی بنیادوں پر ماہر نفسیات اور سماجی کارکن جو خاندانی نفسیاتی سماجی ضروریات کو سمجھنے اور کوکلیرامپلانٹ کے امیدواروں کا جائزہ لیتے ہیں اور کچھ معاملات میں نیورولوجسٹ شامل ہو سکتے ہیں۔ آڈیالوجسٹ اس ٹیم کا سب سے اہم رکن ہوتا ہے، سب سے پہلے کوکلیرامپلانٹ کے لیے مریض اور اسکی فیملی کو ذہنی طور پر تیار کرنا آڈیالوجسٹ کا کام ہے...
میں بطور آڈیالوجسٹ ڈاکٹر ندیم مختار اور ڈاکٹر مہدی منتظر کا بہت شکر گزار ہوں, جنھوں نے مجھے صحیح معنوں میں آڈیالوجی سکھائی.
محمد جہانگیر بدر
muhammadjahangeerbadar@gmail.com
WhatsApp : +923337086400
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
ایک بازار میں جب ہم مختلف انسانوں پر نظر ڈالتے ہیں تو ہر شخص کی آنکھوں میں ایک کہانی چھپی ہوتی ہے۔یہ چوک پرمٹ ہے،جوایک چوراہے پر واقع ہے۔اس چوک میں کریانے، درزی، موٹر سائیکل مکینک، بڑھئی، موچی، چائے اور کھانے کے ہوٹل ،لوہار اور ویلڈنگ اور خراد مشین کی دکانیں ہیں۔ویلڈنگ کی دکان جس کے مالک فخر الدین صاحب تھے۔بازارمیں لوگ انھیں فخری صاحب یا استاد فخری کہتے تھے۔ ویلڈنگ کی دنیا میں وہ اس چوک کےبے تاج بادشاہ تھے۔جولوگ اپنے بچوں کو سکول نہیں پڑھا سکتے،وہ انھیں کوئی نہ کوئی ہنر سیکھنے پر لگا دیتے ہیں تاکہ وہ اپنی زندگی میں کوئی ذریعہ معاش حاصل کرسکیں۔حسبِ معمول فخری صاحب اپنے کام میں مگن تھے کہ ایک ادھیڑ عمرشخص اپنے بیٹے کو لے کر ان کے پاس آئے۔یہ چودھری مظہر تھے جو فخری صاحب کے دوست اور پرانے گاہکوں میں سے تھے۔وہ ان کی قابلیت کے بہت قائل تھے۔آج ان کے
ساتھ ایک لڑکا تھا جس کی عمر قریب انیس سال ہوگی۔
"السلام علیکم!فخری صاحب"
فخری صاحب: "وعلیکم السلام!کیسے مزاج ہیں چودھری صاحب؟"
چودھری مظہر:"اللہ کا شکر ہے۔آپ سنائیں؟"
فخری صاحب:"مجھ پر بھی اللہ کا احسان ہے ۔سنائیں کیسے آنا ہوا؟"
چودھری مظہر:"یار فخری!یہ میرا بیٹا ہے،میں نے اسے سکول پڑھایا۔ہمیشہ اس کے زیرو نمبر آتے ہیں۔اچھے سے اچھے سکول میں داخلہ کرایا مگر مجال ہے اس کے نمبر زیرو سے بڑھے ہوں۔میں بہت پریشان ہوں۔میری باقی لوگوں کی طرح اتنی زمینیں بھی نہیں اور نہ ہی کوئی کاروبار ہے۔میں تو بس نام کا چودھری ہوں ۔ میں چاہتا تھا کہ میرا یہ بیٹا پڑھ لکھ کر کوئی آفیسر بن جائے لیکن اس کی پڑھائی دیکھ کر میں نے اور میرے دوستوں نے سوچا کہ کیوں نہ اسے کوئی کام سیکھنے پر لگا دیں۔اس کے لیے پہلے تو میں نے اسے پنکچر والی دکان پر بٹھایا مگر اس پنکچر والے کی عادات ٹھیک نہیں۔کوئی بھی پنکچر لگوانے آتا ہے تو وہ اس کے پنکچر زیادہ کر دیتا ہے۔اتنے زیادہ کے بالآخر لوگوں کو ٹیوب تبدیل کرانی پڑتی۔اس کی اسی خراب عادت کی وجہ سے میں نے اس کی وہاں سے چھٹی کرا دی ہے ۔اب میں چاہتا ہوں کہ تم اسے اپنا کام سکھادو تاکہ میرے اس جہاں سے جانے کے بعد یہ اپنی روزی روٹی کا بندوبست کر سکے اور میرے بعد گھر کو چلا سکے۔ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں۔
بس تم اسے ویلڈنگ اور خراد مشین کے کام میں اپنی طرح ماہر بنا دو ۔جب یہ اپنی قابلیت کا لوہا منوا لے گا تو میں اسے بستی غلام محمد یا مڈوالہ میں ویلڈنگ اور خراد مشین کی دکان بنوا دوں گا۔
فخری صاحب: "چودھری صاحب!(بات کو غور سے سننے کے بعد مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے) بدقسمتی سے لوگ اس ہنر میں وہ لڑکے بھیجتے ہیں جو پڑھائی میں ناکام ہوجاتے ہیں۔اگر کوئی ذہین فطین لڑکے اس کام میں آئے تو وہ بہت ترقی کریں۔ایک طرح سے یہ بھی انجینئرنگ ہی ہےاگرکوئی پڑھا لکھا اس شعبے میں آئے گا تو چھوٹے چھوٹے مسائل کے بہتر اور اچھے سے اچھے حل نکلیں گے اور نت نئی سے نئی ایجادات ہونگی ۔مگر مجال ہے کہ کوئی پڑھا لکھا آجاۓ۔میری اللہ کے فضل سے تین بیٹیاں ہیں ۔اگرمیرا کوئی بیٹا ہوتا تو میں اسے پڑھائی کے ساتھ ساتھ یہ ہنر بھی سکھاتا کیونکہ اس ہنر میں آپ کے ہاتھوں اور دماغ دونوں کا کمال ہوتا ہےاور بلاشبہ ہاتھ سے کمانے والا اللہ کا دوست ہوتا ہے۔"
چودھری صاحب: "بالکل ٹھیک کہا ہے۔بس میری خواہش ہے آپ میں جتنی قابلیت ہے اس میں سے تھوڑا سا حصہ اس کو بھی عطا کردیں تاکہ یہ اپنی روزی روٹی کے لیے کچھ کر سکے ۔میں آپ کا بہت شکر گزار ہوں گا۔"
فخری صاحب: "اللہ خیر کرے گا۔اس کے سوا کوئی کسی کو رزق نہیں دے
سکتا اور نہ ہی چھین سکتا ہے۔باقی آپ میرے غصے اور سخت مزاج سے بخوبی واقف ہیں۔کام سے متعلق کسی بھی قسم کی لاپروائی قطعاً برداشت نہیں کرتا اور نہ ہی وقت پر کوئی سمجھوتا کرتا ہوں۔جولوگ وقت اور کام کے معیار پر سمجھوتا کرتے ہیں وہ اس بازار میں زیادہ وقت کے لیے ٹک نہیں پاتے۔"آپ کا گاہک ہمیشہ صحیح ہوتا ہے"اگر یہ بات آپ کے پلے پڑ گئی تو پھر آپ کامیاب ہیں۔"
چودھری مظہر: "بالکل ٹھیک کہا ہے۔یہ روازنہ وقت پر پہنچ جایا کرے گا باقی رہی اس کی تربیت وہ آپ اور میں مل کر کرتے رہیں گے ۔"
فخری صاحب: "ٹھیک ہے آپ اسے کل بھیج دیجیئے گا۔ان شاءاللہ میں اپنی پوری کوشش کروں گا کہ اسے اچھے طریقے سے کام سکھاؤں۔میں اگر غصہ کروں تو اسے اور آپ کو برداشت کرنا پڑے گا۔"(فخری صاحب اپنی شرط بتاتے ہوئے کہا)
چودھری مظہر:"ہاں ہاں بالکل کیوں نہیں۔آپ اس کی اصلاح اور بہتری کے لیے ہی غصہ کریں گے، بھلا ذاتی دشمنی تھوڑی ہے۔اچھا اب مجھے اجازت دیجیئے (چودھری مظہر کرسی سے اٹھتے ہوئے)۔کل صبح میں اسے آپ کے ہاں بھیج دوں گا ۔اب میں چلتا ہوں۔"
فخری صاحب: "اتنی بھی کیا جلدی ہے،چائے منگوائی ہے پی کر جائیں گے تو مجھے اچھا لگے گا ۔"( چائے پینے کے بعد جب چودھری مظہر جانے لگے تو
فخری صاحب نے ہدایت کی کہ)" جناب!لڑکے کو کل صبح صبح بھیج دینا۔"
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
اگلے دن ٹھیک 9بجے جنید مظہر (چودھری مظہر کا بیٹا) دکان پر پہنچا۔دھوپ نکل چکی تھی۔دکان پر پہنچتے ہی استاد صاحب کو سلام کیا۔چونکہ وہ اپنے کام میں مشغول تھے اسی لیے ہاتھ ملائے بغیر سلام کا جواب دیا ۔جنید نے اپنا ٹفن (دوپہر کا کھانا) بنچ پر رکھا اور ساتھ پڑی کرسی پر بیٹھ گیا۔اس نے جوتا اتارا اور دونوں ٹانگیں بنچ پر رکھ دیں،گویا وہ کوئی انجینئر ہو یا انسپکشن آفیسر۔فخری صاحب جو اپنے کام میں لگے تھے وہ اس کی یہ حرکت دیکھ رہے تھے۔انھوں نے ابھی صرف اپنے کام پر دھیان دینا مناسب سمجھا۔فارغ ہوئے تو پھر جنید کو بلایا ۔
"دیکھو بیٹا!یہ کوئی وقت تو نہیں دکان پر آنے کا ،صبح 7 بجے یہاں پہنچنا ہوتا ہے۔ہم یہاں آکر جھاڑو لگاتے ہیں اور دکان کی صفائی کرتے ہیں ۔اس کے بعد گاہکوں کے آنے کا وقت ہو جاتا ہے۔گاہک دکان دار کا انتظار نہ کریں بلکہ اچھا تو یہ ہے کہ دکان دار گاہک کا انتظار کرے ۔کامیابی کا پہلا اصول ہی یہی ہے کہ آپ وقت کی قدر کریں۔وقت کی قدر نہیں کریں گے تو وقت بھی تمھاری قدر نہیں کرے گا۔"
جنید: "استاد جی!میں اتنی جلدی نہیں آ سکتا۔"(اس نے منہ بناتے ہوئے کہا)
فخری صاحب:"کیوں بھائی؟ یہ جلدی ہے؟ "(حیرت انگیز انداز میں پوچھا)"بیٹا! یہ دکان کھولنے کا وقت ہے،جلدی نہیں ہے۔،مناسب یہی ہے کل سے 7 بجے دکان پر پہنچ جایا کرو۔"( اس نے مزید تنبیہ کرتے ہوئے کہا)
جنید: "استاد جی!اتنا جلدی تو میرا ناشتہ بھی نہیں تیار ہوتا ۔"
فخری صاحب:" تو؟ جلدی بنوا لیا کرو ،اور اگر نہیں ہو سکتا تو یہاں آکر کر لیا کرو۔وقت پر پہنچنا ضروری ہے ۔"
جنید: "ٹھیک ہے استاد جی۔"
پھر فخری صاحب نے اسے مشینوں کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ہر ایک مشین اور اس کے ساتھ ساتھ کام کرنے کا طریقہ بھی سمجھایا۔جب بھی کوئی گاہک آتا تو فخری صاحب اسے سمجھاتے کہ کیسے بات کرنی ہے۔گاہک کا جو بھی مسئلہ ہو اسے اچھی طرح سننا ہے اس کے بعد تفصیل سے جمع بندی (کاپی پر لکھنا ) کرنی ہےاور گاہک کو بتانا ہے کہ کب تک اس کی چیزیں تیار ہو جائیں گی۔کتنی قیمت لگے گی اور ہاں جو پیشگی (ایڈوانس) لینا ہے اس کی تفصیل لکھنا نہ بھولنا۔
شروع شروع میں تو جنید نے لاپروائی کا مظاہرہ کیا لیکن آہستہ آہستہ ذمہ دار بنتا گیا۔اب وہ صبح صبح پہنچ کر دکان کھولتا،جھاڑو لگاتا،صفائی کرتا ۔پھر اپنا ناشتہ کرتا ،اور استادصاحب کے آنے سے پہلے،جو بھی گاہک آتا ان کی جمع بندی کرتا اور ان کو بتا دیتا کہ کب تک وہ اپنا سامان وصول کر سکتے ہیں۔ شروع میں جب بھی فخری صاحب کوئی بات سمجھانے لگتے تو جنید آگے سے کہتا کہ " پہلے والا استاد تو ایسے نہیں کرتا تھا"
فخری صاحب:" دیکھ کاکا!تم ابھی پرانی پنکچر والی دکان پر نہیں ہو۔اس لیے اس استاد کی باتوں کو دل و دماغ سے نکالنا ہوگا۔کام۔سیکھنا ہے تو یہاں ایمانداری سے کام کرنا پڑے گا ۔بے شک تھوڑا منافع ہو مگر رزق تو حلال ہو۔اور جہاں انسان رہتا ہے وہاں کی صفائی ستھرائی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے اور یہ تمھاری تربیت کا حصہ ہے۔یہاں پر تمھارا چودھری ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا ۔کام سیکھنا ہے تو اپنی اکڑ اور چودھری ہونے کا گھمنڈ گھر چھوڑ کر آنا ہوگا ۔"
جنید کو اس بات پر بہت غصہ آیا مگر اس نے برداشت کیا اور استاد کے ادب کو ملحوظ خاطر رکھا اور سارے حکم بجا لانے لگا۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
فخری صاحب کی تین بیٹیاں تھیں۔ان کا ذریعہ معاش محض یہی ایک دکان ہی تھی۔ بڑی بیٹی فاریہ، بلا کی حسین و جمیل اور معصوم تھی ۔اس کے ساتھ وہ بہت ہی ذہین و فطین بھی تھی۔فخری صاحب کے بھائی،بہن سب یہی چاہتے تھے کہ فاریہ ان کی بہو بنے کیونکہ فاریہ میں وہ ساری خوبیاں موجود تھیں، جو ایک اچھے انسان میں ہونی چاہیے تھیں۔،وہ بہت ہی مؤدب تھی۔ پورے خاندان میں فاریہ کے جیسا بننے کی تلقین کرتے تھے۔خاندان کا ہر لڑکا یہ چاہتا تھا کہ اس کی شادی کسی نہ کسی طرح فاریہ سے ہو جائے۔جس کا نتیجہ یہ تھا کہ خاندان کی ساری لڑکیاں اس سے حسد کرتی تھیں ۔مجال ہے سب جاننے کے باوجود فاریہ کے رویہ میں کوئی فرق آیا ہو سب سے بہترین انداز میں ملتی تھی ۔فخری صاحب کی بیگم افشاں نے اپنی تینوں بیٹیوں کی تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔گھر گرہستی میں اس کی تینوں بیٹیاں ماہر تھیں ۔آئے روز فخری صاحب کی بہنیں اور بھائی اپنے اپنے بیٹے کے لیے رشتہ لے کر آجاتے۔آج رات اس کی بہن مشال اپنے بیٹے نقاش کا رشتہ لے کر آئی تھی۔کھانا کھانے کے بعد کافی دیر باتیں چلتی رہیں۔ پھر کہنے لگیں ۔
مشال:"بھائی!میں جس کام کے لیے آئی ہوں آپ کو سمجھ تو آگئی ہوگی۔میں چاہتی ہوں کہ فاریہ میری بہو بنے۔نقاش اس کا بہت خیال رکھے گا وہ اسے پسند کرتا ہے۔"
فخری صاحب:"آپ سب لوگ چاہتے ہیں کہ میں اپنی بیٹی کو آپ کی بہو
بناؤں۔عائشہ باجی آئیں تھیں وہ بھی یہی کہہ رہیں تھیں کہ فاریہ کو بس میں
نے اپنی بہو بنانا ہے،شمس بھائی بھی یہی کہتے ہیں۔
ابھی آپ کا لاڈلا بھائی نظام بھی یہی کہتا ہے کہ فاریہ تو میرے بیٹے کی دلہن بنے گی ۔مگر ایک فاریہ میں کس کس کو دوں۔اور ابھی تو اس نے یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے،بہت آگے تک پڑھنا ہے،پڑھ کر وہ آگے کیا کرنا چاہتی ہے،اللہ جانے ۔ میں اس کے سارے خواب پورے کرنا چاہتا ہوں بلکہ تینوں بیٹیوں کے خواب پورا کرنے کے لیے جی جان لگادوں گا ۔"
مشال: "فخری میرے بھائی!میں تمھاری بڑی بہن ہوں کیا میرا حق نہیں بنتا ؟ تم خود ہی بتاؤ،کیا میں نے تم سے کبھی کچھ مانگا ہے؟"
فخری صاحب: "آپا!ایسی بات نہیں ہے،اب شمس بھائی بھی یہی کہتے ہیں کہ "میں تمھارا بڑا بھائی ہوں، میرا حق ہے" اور عائشہ وہ تو ہر ہفتے یہی بات کرنے آجاتی ہے۔اب میں سوچ رہا ہوں کہ ایک دن سب کو بلا کر سب سے مشورہ کروں ۔آپ سب لوگ مل کر مشورہ کرلیں کہ میں کس کو اپنی آنکھوں کا نور(فاریہ ) دوں ۔"
مشال: "تمھاری مرضی تم جیسے کرو،پر میری یہ ضد ہے اور میں اس پر قائم ہوں۔ "
فاریہ صحن میں چارپائی پر بیٹھی یہ ساری باتیں سن رہی تھی ۔سیاہ گھپ اندھیرا تھا ۔آسمان پر چاند بادلوں کے ساتھ اٹھکیلیاں کررہا تھا ،ٹھوڑی ہتھیلی پررکھے وہ آسمان پر گھورے جارہی تھی ۔دل ہی دل میں وہ گزرے لمحات کے بارے میں سوچ رہی تھی کہ ایک دن اس کے کزن نقاش نے خون سے خط لکھ کر بھیجا تھا۔اس کے بقول یہ اس کے پیار کے سچے ہونے کی دلیل تھی۔ پھر بعد میں اس کے دوسرے کزن تو صیف کی زبانی معلوم ہوا
کہ یہ خط اس کے مرغے کے خون سے لکھا گیا تھا۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
فخری صاحب جمعہ کے دن اپنی دکان بند رکھتے تھے اور پورا دن اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارتے تھے مغرب کی نماز کے بعد اپنے دوستوں کے ہاں چلے جاتے تھے۔کبھی کوئی نشہ کیا اور نہ ہی کچھ کھاتے پیتے تھے۔پانچ وقت کے نمازی تھے، کبھی کسی کے ساتھ لڑائی جھگڑا بھی نہیں کیا ۔ نہ صرف اپنے بہن بھائیوں کی بلکہ سب کی عزت کرتے تھے۔ وہ فاریہ کے معاملے میں بہت پریشان تھے اس لئے سب کو بلایا۔10 بجے ان کے بہن بھائی ان کے گھر آچکے تھے۔افشاں نے سب کو چائے پیش کی اور پھر روز مرہ کی باتیں ہونے لگیں۔کافی دیر بعد فخری صاحب نے ان کی توجہ دلائی کہ اول بات کیا ہے۔
"بھائیو اور بہنو!میری تین بیٹیاں ہیں اور تینوں آپ سب کی ہی بیٹیاں ہیں۔اگر چار ہوتیں تو آپ سب کو میں اپنی ایک ایک بیٹی دے دیتا مگر آپ سب لوگ چاہتے ہیں کہ فاریہ کی شادی اس کے بیٹے سے ہو۔آپ سب میرے لیے قابلِ عزت ہیں ۔میں کسی کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتا۔ایک بیٹی میں کس کس کو دوں۔آپ سب سمجھدار ہیں آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے آپ لوگ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کروں گا ۔"
فخری صاحب کی بات سن کر ہر کوئی یہی سوچنے لگا کہ وہ ہی اپنے بیٹے کی دلہن بنائے گا ۔ تین گھنٹے تک مسلسل جھگڑا کرنے کے بعد بغیر کسی نتیجے کے بات ختم ہو گئی۔آخر میں فخری صاحب نے انھیں جتا دیاکہ" آپ لوگ فیصلہ کر لیں میں ابھی فاریہ کا یونیورسٹی میں داخلہ کرا رہا ہوں۔میں اسے پڑھائی سے نہیں روک سکتا۔" فاریہ کی پڑھائی پر تو کسی کو اعتراض نہیں تھا۔
یر وہ دن بھی آگیا جب اس کا داخلہ یونیورسٹی میں ہوگیا۔وہ اب فوڈ سائنس ( سائنسی بنیادوں پر کھانے کی چیزوں کی جانچ پڑتال کرنے والی )میں چار سالہ تعلیم حاصل کر رہی تھی ۔فخری صاحب نے اپنی ساری جمع پونجی اس کی پڑھائی پر لگا دی تھی۔پوری جماعت (کلاس)میں کوئی بھی ایسا لڑکا نہیں تھا جو فاریہ کو دیکھ کر اس کا دیوانہ نہ بنا ہو۔اس میں کوئی دو رائے ہے ہی نہیں کہ وہ پوری جماعت میں سب سے خوب صورت لڑکی تھی۔معصوم پیاری ، حسین و جمیل اور نازک سی یہ لڑکی ہر دل کی دھڑکن تھی۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
اسی کلاس میں ایک لڑکا، جس کا نام افراز تھا بہت ہی پیارا ، شریف النفس مگر خاموش طبیعت کا مالک تھا ۔کبھی بھی اسے بولتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔سب کا خیال تھا کہ کہ شاید یہ گونگا ہے۔جب اس کی نظر فاریہ پر پڑی تو معمول کی پڑھائی کے بعد کینٹین پر اس کے پیچھے پیچھے ہولیا۔فاریہ نے نیت بھانپ کر آخر کار پوچھ ہی لیا۔
فاریہ:"کیا مسئلہ ہے؟کیوں میرا پیچھا کر رہے ہو؟"
افراز: "توئی مسئلہ نہیں۔(کوئی مسئلہ نہیں ہے)"فاریہ کی ہنسی نکل گئی۔
فاریہ: "اچھا تو تم توتلے ہو ،اسی لیے نہیں بولتے۔"
یہ سن کر افراز غصہ ہو کر واپس چلا گیا۔فاریہ کو احساس ہوا کہ اس کی یہ بات افراز کو بری لگی ہے۔ اسے اپنے کیے پر ندامت ہوئی۔وہ اس کے پیچھے جاکر معذرت کرنا چاہتی تھی لیکن تب تک وہ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا تھا۔
اگلے دن لیکچر کے ختم ہوتے ہی فاریہ اس کے پاس گئی اور بولی۔
"افراز!میں کل کی بات پر بہت شرمندہ ہوں ۔میں جان بوجھ کر نہیں ہنسی تھی ۔ وہ تو بس ناچاہتے ہوئے میری ہنسی نکل گئی تھی۔میں معذرت خواہ ہوں،مجھے معاف کردو۔"
وہ خاموشی سے سنتا رہا۔فاریہ پھر بولی۔"اب کوئی جواب تو دے دو، معاف کیا کہ نہیں؟"
فاریہ کو بغور دیکھا اور نہایت ادب اور شائستگی سے بولا۔
"مجھے اپنی بےعزتی نہیں تروانی"(مجھے اپنی بےعزتی نہیں کروانی)۔
بہت مشکل سے فاریہ نے اپنی ہنسی پر قابو پایا۔کلاس کی ساری لڑکیاں یہ سب دیکھ رہی تھیں۔فاریہ اپنی ہنسی کو قابو کرتے ہوئے بولی۔
"اب معاف بھی کردو بابا"
"تردیا معاف داؤ۔تیایاد ترو دی" (معاف کردیا جاؤ!کیا یاد کروگی)۔ افراز بولا۔
٭۔۔۔۔٭۔۔۔۔٭
You have read 12% of وہ بہری نہیں تھی؟ - Wo Behri Nahin Thi?- Book About Disability. The full e-book picks up right where this stopped.