Check out our most recent publications
Zarish  Iqbal

Zarish Iqbal

@_zknits_
Lahore, Pakistan Joined May 2020 Poetry, Fiction, Non-Fiction

About the Author

زندگی کے ان چوبیس سالوں میں کب اپنی ذات کی تعمیر کے لیے تحریر کا سہارا لے لیا خود بھی نہیں جانتی۔شاید اُسی دن سے جس دن سے ہوش سنبھال لیا اور بچپن کھو دیا یا یوں کہوں کہ ہوش سنبھالنے کے چکر میں ابھی بھی اپنے کھوئے بچپن کو جینا چاہ رہی ہوں۔ وہ جو پیچھے چھوٹ گیا ۔۔۔جسے جی نہیں پائی۔۔۔ وہ اب آخری دن تک جینے کو کوشش میں رہوں گی۔ شوق تھے، ہیں اور رہیں گے بھی اور وہ بھی ایک دو شوق نہیں بلکہ ہر وہ کام کرنے کی ٹھان لیتی ہوں جسے دیکھ کر سوچتی ہوں کہ میرے ہاتھ اسے کرنے سے محروم کیوں رہیں۔ ہر وہ بات سوچنے، سمجھنے اور الجھ کر سلجھانے کا شوق رکھتی ہوں جسے سوچتی ہوں کہ میری عقل سمجھ بوجھ ہضم کرنے میں کتنا وقت لیتی ہے۔ زندگی شروع ہوئی۔۔۔۔ غور کر نے کی بات ہے کہ زندگی شروع ہوئی اور میں نے بُننا شروع کردیا ۔لفظوں کو، اُن کے لہجوں کو، اُن کے جذبوں کو۔۔۔ پر بُنتے بُنتے کب کاغذ اور قلم ہاتھ میں آئے علم نہیں۔ہاں علم ہے تو اس بات کا کہ اب میں تحریر کر پاتی ہوں جو نظروں سے گزر کر دل میں ٹھہرے اور دماغ میں قیام کرلے۔ اردو، پنجابی اور انگریزی میں تحریر کرتی ہوں آگے جا کے اگر اس قابلیت کی مالک ہوئی کہ دل و دماغ کے ساتھ ساتھ اور زبانیں سمجھ پاؤں تو لکھوں گی ضرور۔ لاہور میں مقیم ایک چوتھائی دماغ اور تین چوتھائی دل کی مالک ذات ہے میری جسے لکیریں کھینچنے کی عادت ہے۔ وہ لکیریں کبھی تحریر بن جاتی ہیں اور کبھی تصویر۔ اپنی پہلی کتاب کی تصویر بھی میری ذاتی کوشش ہے اگر میری کتاب میرا عکس ہے تو اس کتاب کی تصویر میں میری ذات کی جھلک۔ لکھتی ہوں کہ میٹھی ہو جاؤں اتنی میٹھی کہ جتنا میرا خدا مجھے دیکھنا چاہتا ہے۔۔ میٹھی ہو جاؤں اپنی تحریروں میں خلوص، پاکیزگی اور اصل گھول کر۔۔ وہ سب گھول کر جو میں نے چکھا ہے اور چاہتی ہوں کہ سب چکھیں اور پرکھیں کہ یہاں اس دنیا میں ان کہی باتیں، جذبے، احساس، رشتے، تعلق اور دعائیں اپنا اپنا ایک ذائقہ رکھتی ہیں۔۔۔ اور اگر اتنا میٹھا میں کسی کو ڈھونڈ نہ پاؤں تو کسی کی تلاش مجھ پہ ختم ہو جائے تو سکون میرا ہوگا۔۔۔ اور میں اس سکون کی تلاش میں لکھے جارہی ہوں۔۔۔!

Statistics as an Author

4Books Published
5Average Rating
341Times Read

Quotes by Zarish Iqbal

“اِس کے علاوہ آن لائن رائٹنگ کمپیٹیشنز میں بھی حصہ لیتی رہی ہیں اور اپنے قلم کو مزید طاقت بخشنے کے لیے سوشل میڈیا پیجز چلاتی ہیں۔”
“آج صبح پھر جب روزی کمانے کے لے راستہ ناپنے نکلی تو نظر ہوا میں جھولتے پھول پہ پڑی جو اپنا بہترین رنگ اور تازگی لیے پودے کی شاخ کا اکیلا مالک بنا بیٹھا۔”
“والدین سے ملی وراثت کہہ لیں یا پھر خود کی شخصیت میں اِک چُھپا جنون کہ انھوں نے صرف خود کو یا تو خطاطی، مصوری یا پھر اپنی عمر سے بڑے درجے کی کتابیں پڑھنے کی کوشش میں پایا۔”
Browse all quotes